25 اگست 2013 - 19:30

حکومت میانمار کو سیکڑوں مسلمانوں کی زبردستی نقل مکانی کی وجہ سے بہت سے مسلمان گھرانوں کے اعتراض کا سامنا ہے ۔ حکومت میانمار کا کہنا ہے کہ ملک کے مغربی علاقے میں خراب صورت حال اور دوری کی وجہ سے حکومت مسلمانوں کو دوسرے علاقوں میں حکومت مسلمانوں کو دوسرے علاقے میں منتقل کرنے پر مجبور ہے ۔

ابنا: یہ ایسی حالت میں کہ بہت  سے  مسلمان گھرانے اجباری کوچ اور شہر سیتوہ سے باہرکیمپ میں جہاں پہلے مسلمان آباد تھے ناراض ہیں ۔ اس لئے کہ اس کوچ  کے بعد بھی مسلمانوں کے خلاف  انتہا پسندبدھسٹوں کی دھمکیوں میں کمی واقع نہیں ہوئی ہے مسلمانوں کو اب بھی بدھسٹوں کی طرف سے بہت خطرہ ہے ۔25 اگست اتوار کے دن مقامی خبری ذرا‏ئع نے انتہا پسند بدھسٹوں کی طرف سے میانمار کے  مغرب شمال میں مسلمانوں کے بہت سے مکانوں  اور دکانوں میں آگ  لگانے کی  خبر دی ہے ۔ انتہا پسند بدھسٹوں نے صرف اس پر اکتفا نہیں کیا بلکہ انھوں نے گذشتہ  ہفتے مسلمانوں کے خلاف بدھسٹوں کے حملوں کے بارے میں اقوام متحدہ کی طرف سے آنے والے  رپورٹروں کی گاڑیوں پر بھی حملہ کیا ہے ۔ میانمار میں انسانی حقوق امور میں اقوام متحدہ کے خصوصی رپورٹر ٹومس اوجی قینتانا اپنی گاڑی پر دوسوں انتہا  پسند بدھسٹوں کے حملے کی طرف اشارہ کرتے ہوئےکہا ہے کہ پولیس کی طرف سے ان کی صحیح حفاظت نہیں کی گئی ہے ۔ اگرچہ مقامی  پولیس والوں نے ان حملوں کو مسترد کیا ہے ۔ لیکن گذشتہ ہفتے پولیس کی حمایت کے ذریعہ انتہا پسند بدھسٹوں کی طرف سے  مسلمانوں کے خلاف تشدد آمیز واقعات خبریں شائع ہوئی ہیں جس کے نتیجہ میں ملکی اور غیر ملکی  سطح پر حکومت کے خلاف وسیع پیمانے پر تنقیدیں ہوئی ہیں ۔ بعض جگہوں پر کہاگیا  ہے کہ میانمار کی فوج نے نسلی پاکسازی کے لئے انتہا بدھسٹھوں کو پیٹرول دئیے کہ تاکہ وہ مسلمان گاؤں کو آگ لگاکر انھیں فرار کرنے پر مجبور کرسکیں ۔  میانمار میں حکومت کی طرف مسلمانوں کے خلاف مختلف پابندیوں کے باوجود منجملہ  میانمار کے مغربی علاقے کی خراب صورت حال اوردوری کے بہانے تشویش ناک خبریں موصول ہورہی ہیں اور انتہا پسند بدھسٹوں کے حملے جاری ہیں ۔ میانمار کے مغرب میں واقع صوبہ  راخین میں بدھسٹوں کی جانب سے گذشتہ دو برس سے  مسلمانوں کے خلاف باقاعدہ منصوبہ بند خونریز حملے ہوتے رہے ہیں جس میں تقریبا دوسو سے زیادہ مسلمان جاں بحق اور ایک لاکھ چالیس ہزار سے زائد لوگ بے گھر اور  آوارہ وطن ہوچکے ہیں۔ اس وقت بھی بہت سے بے گھر مسلمان کیمپوں میں دربدری کی زندگی گذار رہے ہیں ۔بہت سے سیاسی مبصرین میانمار کے مغربی علاقے میں تازہ جھڑپوں کو گذشتہ برس مسلمانوں کے خلاف مسلط کئے گئے تشدد آمیز اقدامات اور محدود پالیسوں کو قرار دیتے ہیں ۔ اس لئے کہ اجباری کوچ اوربہت سے مسلمانوں  کو بدھسٹوں سے جداکرنے کے بہانے ایسے حالات پیدا کردئیے  گئے ہیں کہ انھیں اپنے وطن پلٹ کر آنے کی کوئی امید ہے  نہ ہی امکان موجود  ہے ۔مسلمانوں کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے ان کی حفاظت کی تاکید کے باوجود میانمار کے مغربی علاقے میں ان کی زندگياں خطرے سے محفوظ نہیں ہیں ۔بہت سے سیاسی مبصرین مسلمانوں کو شہری  حقوق دینے میں حکومت کی کوتاہی کوان کے خلاف بدھسٹوں کے تشدد  آمیز اقدامات کی ترغیب  جانتے ہیں ۔ اسی  لئےمیانمار کے مسلمانوں نے بارہا اقوام متحدہ سے لوگوں خاص طورپراقلیتوں کے پامال شدہ حقوق کا جائزہ لینے والے واحد عالمی ادارہ کی  حیثیت سے مطالبہ کیا ہے کہ روہنگیا مسلمانوں کے حقوق دلوانے کے سلسلے میں ٹھوس اقدام کرے اور میانمار کے صدرتھین سین کومسلمانوں کے شہری حقوق کو  تسلیم کرلے ۔ 

.......

/169